رمضان کے سنت مؤکدہ اعتکاف کی قضا کا حکم
رمضان المبارک کے آخری عشرے کا سنت مؤکدہ اعتکاف اگر کسی وجہ سے ٹوٹ جائے تو صرف ایک دن کی قضا لازم ہوتی ہے۔ اگر رمضان کے دن باقی ہیں تو انہی میں قضا کی جاسکتی ہے۔ بصورت دیگر، رمضان کے علاوہ بھی کسی دن قضا کی جاسکتی ہے۔ تاہم، عید الفطر کے دن اور ذوالحجہ کی 10 سے 13 تاریخوں میں روزہ رکھنا مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا ان دنوں میں اعتکاف کی قضا نہیں کی جائے گی۔
اعتکاف کی قضا کا طریقہ
اعتکاف کی قضا کا طریقہ یہ ہے کہ کسی دن غروبِ آفتاب سے پہلے قضا اعتکاف کی نیت سے مسجد میں (عورتوں کے لیے مسجدِ بیت میں) داخل ہوں۔ اگلے دن روزہ رکھیں اور مغرب کی نماز کے بعد اعتکاف مکمل کریں۔ اس طرح ایک دن کا اعتکاف مکمل ہوگا اور قضا ادا ہوجائے گی۔
قضا اعتکاف میں روزے کی نیت
قضا اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے۔ اس لیے اعتکاف کی قضا کرتے وقت روزے کی نیت بھی ضروری ہے۔ یہ نیت رات کو سحری سے پہلے کرنی چاہیے تاکہ روزہ اور اعتکاف دونوں کی نیت مکمل ہو۔
نتیجہ
اگر رمضان کے آخری عشرے کا سنت مؤکدہ اعتکاف کسی وجہ سے ٹوٹ جائے تو صرف ایک دن کی قضا لازم ہے۔ یہ قضا رمضان کے باقی دنوں میں یا رمضان کے بعد کسی بھی دن کی جاسکتی ہے، سوائے ان دنوں کے جن میں روزہ رکھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ قضا اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے اور اس کی نیت رات کو سحری سے پہلے کرنی چاہیے۔
One thought on “اعتکاف کی قضا: احکام اور طریقہ کار”