روزہ توڑنے کی شرعی اجازت
اسلامی شریعت میں روزہ ایک اہم عبادت ہے، لیکن اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کے بعد ایسی بیماری میں مبتلا ہوجائے جس سے جان جانے یا عقل میں نقصان کا صحیح اندیشہ ہو، تو اس صورت میں روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔ معمولی بخار یا نزلہ زکام کی وجہ سے روزہ توڑنے کی اجازت نہیں ہے۔
بہارِ شریعت کی روشنی میں
بہارِ شریعت میں مذکور ہے کہ سفر، حمل، بچے کو دودھ پلانا، مرض، بڑھاپا، ہلاکت کا خوف، اکراہ، نقصانِ عقل اور جہاد یہ سب روزہ نہ رکھنے کے لیے عذر ہیں۔ اگر کسی کو بھوک یا پیاس کی شدت سے ہلاکت یا نقصانِ عقل کا صحیح اندیشہ ہو تو روزہ نہ رکھے۔
روزہ توڑنے کے بعد قضا کا حکم
اگر کسی نے بیماری کی وجہ سے روزہ توڑا ہے تو صحت یاب ہونے کے بعد اس روزے کی قضا کرنا واجب ہے۔ یعنی، جتنے روزے بیماری کی وجہ سے چھوڑے یا توڑے گئے ہیں، انہیں بعد میں رکھنا ضروری ہے۔
کفارہ کی شرائط
اگر کسی نے بلا عذرِ شرعی روزہ توڑا تو کفارہ لازم آتا ہے، جو کہ مسلسل ساٹھ روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہے۔ لیکن اگر روزہ توڑنے کے بعد اسی دن کوئی آسمانی عذر، جیسے حیض، نفاس یا ایسا مرض جس کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے یا توڑنے کی اجازت ہو، پیدا ہوجائے تو کفارہ ساقط ہوجاتا ہے اور صرف قضا لازم ہوتی ہے۔
اسلامی شریعت میں روزہ ایک اہم عبادت ہے، لیکن اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کے بعد ایسی بیماری میں مبتلا ہوجائے جس سے جان جانے یا عقل میں نقصان کا صحیح اندیشہ ہو، تو اس صورت میں روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔ معمولی بخار یا نزلہ زکام کی وجہ سے روزہ توڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ روزہ توڑنے کے بعد صحت یاب ہونے پر اس کی قضا کرنا واجب ہے۔ بغیر شرعی عذر کے روزہ توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے، لیکن اگر روزہ توڑنے کے بعد اسی دن کوئی آسمانی عذر پیدا ہوجائے تو کفارہ ساقط ہوجاتا ہے اور صرف قضا لازم ہوتی ہے۔