سحری میں اذان ہونے تک کھانا پینا

سحری کے دوران اذانِ فجر کے وقت کھانے پینے کے احکام

سحری کا اختتام اور اذانِ فجر کا آغاز

اسلامی تعلیمات کے مطابق، سحری کا وقت صبحِ صادق تک محدود ہے۔ صبحِ صادق کے طلوع ہوتے ہی سحری کا وقت ختم اور فجر کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ فجر کی اذان عام طور پر صبحِ صادق کے بعد دی جاتی ہے تاکہ نمازِ فجر کا وقت داخل ہونے کی اطلاع دے۔ لہٰذا، اذانِ فجر کے آغاز کے ساتھ ہی کھانے پینے سے رک جانا ضروری ہے۔

اذان کے دوران سحری جاری رکھنے کا حکم

اگر کوئی شخص اذانِ فجر کے دوران کھانے پینے میں مصروف ہو تو اسے فوراً رک جانا چاہیے۔ علماء کی اکثریت کے مطابق، اذان کے وقت سحری کھانے کا عمل جاری رکھنا روزے کی صحت پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ لہٰذا، احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اذان کے آغاز کے ساتھ ہی سحری کا اختتام کیا جائے۔

ناواقفیت میں اذان کے بعد کھانے پینے کا حکم

اگر کسی شخص نے لاعلمی یا ناواقفیت کی بنا پر اذانِ فجر کے بعد بھی کھانا پینا جاری رکھا تو اس دن کا روزہ معتبر نہیں ہوگا اور اس کی قضا لازم ہوگی۔ تاہم، اس صورت میں کفارہ واجب نہیں ہوگا کیونکہ یہ عمل جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔

احتیاطی تدابیر

سحری کے وقت کے اختتام سے چند منٹ قبل ہی کھانے پینے کا عمل مکمل کرلینا مستحب ہے تاکہ کسی ابہام یا غلطی سے بچا جاسکے۔ اس طرح روزے کی صحت اور قبولیت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔

نتیجہ

سحری کے دوران اذانِ فجر کے وقت کھانے پینے سے متعلق اسلامی احکام واضح ہیں۔ اذانِ فجر کے آغاز کے ساتھ ہی سحری کا اختتام کرنا ضروری ہے تاکہ روزہ درست اور مقبول ہو۔ ناواقفیت میں اگر اذان کے بعد کھانا پینا جاری رکھا جائے تو اس کی قضا لازم ہوگی، لیکن کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ سحری کا عمل وقتِ مقررہ سے پہلے مکمل کرلیا جائے۔

Leave a comment