معراج کب ہوئی

معراج النبی ﷺ کب ہوئی؟ ایک تحقیقی جائزہ

معراج النبی ﷺ کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک نہایت ہی اہم اور مبارک واقعہ ہے، جس میں نبی کریم ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور رب العالمین کی بارگاہ میں شرفِ حضوری نصیب ہوا۔ اس واقعے کی تاریخ کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، اور علمائے کرام نے اس حوالے سے مختلف اقوال ذکر کیے ہیں۔ اس مضمون میں ہم معراج النبی ﷺ کی تاریخ کے بارے میں مستند حوالوں کی روشنی میں تفصیلی جائزہ لیں گے۔

واقعۂ معراج کیا ہے؟

معراج النبی ﷺ ایک ایسا معجزاتی سفر ہے جو نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا۔ اس سفر میں آپ ﷺ کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے ساتوں آسمانوں کی سیر کروائی گئی، یہاں تک کہ آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کی۔ اسی موقع پر امتِ محمدیہ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔

معراج النبی ﷺ کب واقعہ پذیر ہوا؟

اس مبارک سفر کی تاریخ کے حوالے سے مختلف مؤرخین اور محدثین نے مختلف آراء پیش کی ہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق، معراج کا واقعہ ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔

معراج النبی ﷺ کی تاریخ پر مختلف آراء

متعدد علماء اور سیرت نگاروں نے اس واقعہ کی تاریخ کے تعین کے لیے تحقیقی کام کیا ہے، جن میں سے چند مشہور آراء درج ذیل ہیں:

  1. 27 رجب المرجب:
    • یہ سب سے زیادہ مشہور اور معروف روایت ہے، جس کے مطابق معراج النبی ﷺ 27 رجب کی شب میں پیش آیا۔
    • امام عبدالغنی مقدسی (المتوفی 600ھ) نے بھی اس تاریخ کو بیان کیا ہے۔
    • علامہ زرقانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عام طور پر امتِ مسلمہ اسی تاریخ کو تسلیم کرتی ہے اور اسی پر عمل کیا جاتا ہے۔
  2. 17 ربیع الاول:
    • بعض مؤرخین نے یہ رائے دی ہے کہ معراج کا واقعہ 17 ربیع الاول کو پیش آیا تھا۔
  3. 27 رمضان المبارک:
    • بعض علماء کی رائے میں یہ واقعہ رمضان المبارک کی 27ویں شب میں پیش آیا۔
  4. 12 ربیع الاول:
    • کچھ اہلِ علم نے 12 ربیع الاول کی تاریخ کا ذکر کیا ہے۔

صحیح ترین رائے کون سی ہے؟

اگرچہ مختلف روایات موجود ہیں، مگر امت میں عمومی طور پر 27 رجب کی تاریخ کو معراج کی شب کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، اور اکثر علمائے کرام اسی رائے کو اختیار کرتے ہیں۔

معراج شریف کے مہینے اور تاریخ پر علماء کی رائے

متعدد جلیل القدر علماء نے معراج شریف کے وقت اور تاریخ کے بارے میں اپنی آراء بیان کی ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • علامہ ابن قتیبہ دینوری (المتوفی 267ھ)، امام عبدالبر (المتوفی 463ھ)، امام نووی (المتوفی 676ھ) اور امام رافعی رحمہم اللہ نے فرمایا کہ معراج رجب کے مہینے میں ہوئی۔
  • علامہ زرقانی نے یہ بھی ذکر کیا کہ عوام میں یہی تاریخ معروف ہے اور اسی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

واقعۂ معراج کی اہمیت اور پیغام

معراج النبی ﷺ کا واقعہ محض ایک معجزہ نہیں بلکہ اس میں کئی روحانی اور عملی اسباق موجود ہیں:

  1. نماز کی فرضیت:
    • اسی شب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر پانچ وقت کی نمازیں فرض فرمائیں، جو دینِ اسلام کا بنیادی ستون ہے۔
  2. ایمان کی آزمائش:
    • معراج کا واقعہ اہلِ ایمان کے لیے آزمائش بنا، کیونکہ کفار نے اسے ناممکن سمجھا، مگر سچے مومنین نے بغیر کسی شبہے کے اس پر ایمان رکھا۔
  3. اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار:
    • یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نبی کریم ﷺ کی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔

شبِ معراج کی عبادات

چونکہ 27 رجب کی شب کو اکثر علماء معراج کی رات مانتے ہیں، اس لیے اس رات میں خصوصی عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس رات کی برکتیں حاصل کرنے کے لیے درج ذیل اعمال کیے جا سکتے ہیں:

  • نوافل کی ادائیگی
  • تلاوتِ قرآن
  • ذکر و اذکار
  • درود شریف کی کثرت
  • استغفار اور دعائیں

نتیجہ

واقعۂ معراج ایک غیر معمولی معجزہ ہے، جس کی صحیح تاریخ پر اگرچہ اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن 27 رجب کی روایت زیادہ مشہور اور مقبول ہے۔ اس شب کو مسلمان خصوصی عبادات کے ذریعے گزارتے ہیں، تاکہ اللہ کی رحمت اور مغفرت حاصل ہو۔ معراج النبی ﷺ کا پیغام ہمیں نماز کی پابندی، ایمان کی مضبوطی اور اللہ کی قدرت پر مکمل یقین کی تلقین کرتا ہے۔

Leave a comment