All posts by Sameer Ali

Fatwa QA دارالافتاء is an Islamic website that provides religious rulings (fatwas) based on Islamic jurisprudence. It is managed by scholars who answer queries related to various aspects of Islamic life, including worship, finance, family matters, and ethics. The site aims to offer authentic and reliable Islamic guidance to Muslims worldwide. https://www.fatwaqa.com/ur

Importance of Itikaf – اعتکاف اور اس کی اہمیت

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی روحانی اور جسمانی تربیت کا اہتمام کرتا ہے۔ عبادات کے ذریعے جہاں انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہوتا ہے، وہیں اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے جو بندے کو مکمل طور پر دنیاوی معاملات سے الگ کر کے اللہ کی بندگی میں مشغول کر دیتی ہے۔

اعتکاف کی تعریف

اعتکاف عربی لفظ “عکف” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے “ٹھہر جانا” یا “کسی چیز میں خود کو مشغول رکھنا”۔ شرعی اصطلاح میں اعتکاف سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ کی رضا اور قربت کے لیے مسجد میں مخصوص مدت تک قیام کرے، دنیاوی امور سے کنارہ کشی اختیار کرے اور مکمل طور پر عبادت میں مشغول ہو جائے۔

اعتکاف کی اہمیت اور فضیلت

اعتکاف ایک نہایت اہم اور بابرکت عبادت ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتی ہے۔ اس کی اہمیت درج ذیل نکات میں واضح کی جا سکتی ہے:

قربِ الٰہی کا ذریعہ

اعتکاف میں بندہ دنیاوی جھمیلوں سے آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے، جس سے اس کے دل میں خدا کی محبت اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔

نبی کریمﷺ کی سنت

نبی اکرمﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں
“نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا، پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیا
۔” (بخاری و مسلم)

لیلۃ القدر کی تلاش

رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ایک اہم مقصد شبِ قدر کو پانا بھی ہے، جو کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اعتکاف میں رہنے والا شخص راتوں کو جاگ کر عبادت کرتا ہے، جس سے وہ اس بابرکت رات کی فضیلت کو حاصل کر سکتا ہے۔

گناہوں کی معافی کا موقع

اعتکاف میں بندہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اور توبہ و استغفار کرتا ہے، جس سے وہ اللہ کی رحمت کا مستحق بن جاتا ہے۔

دل کی پاکیزگی اور یکسوئی

روزمرہ زندگی میں انسان مختلف مشاغل میں مصروف رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا دل دنیاوی آلائشوں میں گھر جاتا ہے۔ اعتکاف بندے کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ خود کو دنیا کی فکریں چھوڑ کر اللہ کی یاد میں مصروف کرے اور دل کی پاکیزگی حاصل کرے۔

اعتکاف کے بنیادی اصول

مسجد میں قیام

مردوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسجد میں اعتکاف کریں، جبکہ خواتین گھر میں کسی مخصوص جگہ کو اعتکاف کے لیے مخصوص کر سکتی ہیں۔

مخصوص مدت

اعتکاف کا سب سے افضل وقت رمضان کے آخری عشرے میں ہوتا ہے، تاہم نفلی اعتکاف کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔

اگر اعتکاف ٹوٹ جائے تو کیا قضا صرف آئندہ رمضان میں ہی ہوگی یا کسی اور وقت بھی ممکن ہے؟

عبادت اور ذکر

اعتکاف میں زیادہ سے زیادہ وقت نماز، تلاوت، ذکر و اذکار، اور دعا میں گزارنا چاہیے۔

دنیاوی امور سے اجتناب

اعتکاف کرنے والے کو غیر ضروری گفتگو اور دنیاوی معاملات سے پرہیز کرنا چاہیے۔

نتیجہ

اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور اس کی روحانی تربیت کا باعث بنتی ہے۔ یہ دنیاوی آلائشوں سے دور ہو کر خود احتسابی اور اصلاح کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس سنت پر عمل کریں اور اس کے فیوض و برکات سے مستفید ہوں، تاکہ ہماری آخرت سنور جائے اور ہم اللہ کے قریب ہو سکیں۔

معراج النبی ﷺ کب ہوئی؟ ایک تحقیقی جائزہ

معراج النبی ﷺ کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک نہایت ہی اہم اور مبارک واقعہ ہے، جس میں نبی کریم ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور رب العالمین کی بارگاہ میں شرفِ حضوری نصیب ہوا۔ اس واقعے کی تاریخ کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، اور علمائے کرام نے اس حوالے سے مختلف اقوال ذکر کیے ہیں۔ اس مضمون میں ہم معراج النبی ﷺ کی تاریخ کے بارے میں مستند حوالوں کی روشنی میں تفصیلی جائزہ لیں گے۔

واقعۂ معراج کیا ہے؟

معراج النبی ﷺ ایک ایسا معجزاتی سفر ہے جو نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا۔ اس سفر میں آپ ﷺ کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے ساتوں آسمانوں کی سیر کروائی گئی، یہاں تک کہ آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کی۔ اسی موقع پر امتِ محمدیہ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔

معراج النبی ﷺ کب واقعہ پذیر ہوا؟

اس مبارک سفر کی تاریخ کے حوالے سے مختلف مؤرخین اور محدثین نے مختلف آراء پیش کی ہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق، معراج کا واقعہ ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔

معراج النبی ﷺ کی تاریخ پر مختلف آراء

متعدد علماء اور سیرت نگاروں نے اس واقعہ کی تاریخ کے تعین کے لیے تحقیقی کام کیا ہے، جن میں سے چند مشہور آراء درج ذیل ہیں:

  1. 27 رجب المرجب:
    • یہ سب سے زیادہ مشہور اور معروف روایت ہے، جس کے مطابق معراج النبی ﷺ 27 رجب کی شب میں پیش آیا۔
    • امام عبدالغنی مقدسی (المتوفی 600ھ) نے بھی اس تاریخ کو بیان کیا ہے۔
    • علامہ زرقانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عام طور پر امتِ مسلمہ اسی تاریخ کو تسلیم کرتی ہے اور اسی پر عمل کیا جاتا ہے۔
  2. 17 ربیع الاول:
    • بعض مؤرخین نے یہ رائے دی ہے کہ معراج کا واقعہ 17 ربیع الاول کو پیش آیا تھا۔
  3. 27 رمضان المبارک:
    • بعض علماء کی رائے میں یہ واقعہ رمضان المبارک کی 27ویں شب میں پیش آیا۔
  4. 12 ربیع الاول:
    • کچھ اہلِ علم نے 12 ربیع الاول کی تاریخ کا ذکر کیا ہے۔

صحیح ترین رائے کون سی ہے؟

اگرچہ مختلف روایات موجود ہیں، مگر امت میں عمومی طور پر 27 رجب کی تاریخ کو معراج کی شب کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، اور اکثر علمائے کرام اسی رائے کو اختیار کرتے ہیں۔

معراج شریف کے مہینے اور تاریخ پر علماء کی رائے

متعدد جلیل القدر علماء نے معراج شریف کے وقت اور تاریخ کے بارے میں اپنی آراء بیان کی ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • علامہ ابن قتیبہ دینوری (المتوفی 267ھ)، امام عبدالبر (المتوفی 463ھ)، امام نووی (المتوفی 676ھ) اور امام رافعی رحمہم اللہ نے فرمایا کہ معراج رجب کے مہینے میں ہوئی۔
  • علامہ زرقانی نے یہ بھی ذکر کیا کہ عوام میں یہی تاریخ معروف ہے اور اسی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

واقعۂ معراج کی اہمیت اور پیغام

معراج النبی ﷺ کا واقعہ محض ایک معجزہ نہیں بلکہ اس میں کئی روحانی اور عملی اسباق موجود ہیں:

  1. نماز کی فرضیت:
    • اسی شب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر پانچ وقت کی نمازیں فرض فرمائیں، جو دینِ اسلام کا بنیادی ستون ہے۔
  2. ایمان کی آزمائش:
    • معراج کا واقعہ اہلِ ایمان کے لیے آزمائش بنا، کیونکہ کفار نے اسے ناممکن سمجھا، مگر سچے مومنین نے بغیر کسی شبہے کے اس پر ایمان رکھا۔
  3. اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار:
    • یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نبی کریم ﷺ کی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔

شبِ معراج کی عبادات

چونکہ 27 رجب کی شب کو اکثر علماء معراج کی رات مانتے ہیں، اس لیے اس رات میں خصوصی عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس رات کی برکتیں حاصل کرنے کے لیے درج ذیل اعمال کیے جا سکتے ہیں:

  • نوافل کی ادائیگی
  • تلاوتِ قرآن
  • ذکر و اذکار
  • درود شریف کی کثرت
  • استغفار اور دعائیں

نتیجہ

واقعۂ معراج ایک غیر معمولی معجزہ ہے، جس کی صحیح تاریخ پر اگرچہ اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن 27 رجب کی روایت زیادہ مشہور اور مقبول ہے۔ اس شب کو مسلمان خصوصی عبادات کے ذریعے گزارتے ہیں، تاکہ اللہ کی رحمت اور مغفرت حاصل ہو۔ معراج النبی ﷺ کا پیغام ہمیں نماز کی پابندی، ایمان کی مضبوطی اور اللہ کی قدرت پر مکمل یقین کی تلقین کرتا ہے۔

صدقہ فطر کی مقدار: گندم کے علاوہ کشمش، جَو یا کھجور سے فطرہ کتنا ہوگا؟


صدقہ فطر ہر مسلمان پر عید الفطر کے موقع پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہو۔ اس کا مقصد روزے کی کمی کو پورا کرنا اور غرباء و مساکین کی مدد کرنا ہے۔ شریعت میں صدقہ فطر کی مقدار مختلف اجناس کے لحاظ سے مقرر کی گئی ہے، جن میں گندم، جَو، کھجور اور کشمش شامل ہیں۔ اس مضمون میں ہم گندم کے علاوہ دیگر اجناس کے اعتبار سے صدقہ فطر کی مقدار اور اس کے تعین کے اصول بیان کریں گے۔

صدقہ فطر کی مقدار: کشمش، جَو اور کھجور

احادیث مبارکہ اور فقہاء کے اقوال کی روشنی میں، صدقہ فطر کی مقدار جَو، کھجور اور کشمش کے لحاظ سے درج ذیل ہے:

جَو: ایک صاع، جو تقریباً 3.840 کلوگرام کے برابر ہے۔

کھجور: ایک صاع، یعنی تقریباً 3.840 کلوگرام۔

کشمش: ایک صاع، یعنی 3.840 کلوگرام۔

دارالافتاء اہلِ سنت (دعوتِ اسلامی) کے مطابق:

“صدقہ فطر کے لیے گندم کا نصف صاع (1.920 کلوگرام) اور دیگر اجناس (جَو، کشمش، کھجور) کا ایک صاع (3.840 کلوگرام) ادا کیا جائے۔”
(DaruliftaAhleSunnat)

مزید برآں، فتویٰ ویب سائٹ فتویٰ کیو اے کے مطابق:

“صدقہ فطر کی مقدار حدیث کے مطابق مقرر ہے، اور جَو، کشمش اور کھجور سے فطرہ کی مقدار ایک صاع کے برابر ہے۔”
(FatwaQA)

صدقہ فطر کی مقدار کے حساب کا اصول

صدقہ فطر کی مقدار ادا کرتے وقت ضروری ہے کہ اجناس کی مارکیٹ میں موجودہ قیمت کو دیکھا جائے۔ اجناس کی قیمتیں ہر علاقے میں مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے صدقہ فطر ادا کرنے سے پہلے مقامی نرخ معلوم کریں۔ مثلاً:

گندم: نصف صاع (1.920 کلوگرام)

جَو، کشمش، کھجور: ایک صاع (3.840 کلوگرام)

موجودہ نرخ اور صدقہ فطر کی ادائیگی

دارالافتاء اہلِ سنت اور دیگر معتبر اسلامی اداروں کی رہنمائی کے مطابق، درج ذیل اجناس کے حساب سے 2023ء میں صدقہ فطر کی مقدار کچھ یوں تھی:

گندم: 250 روپے (نصف صاع)

جَو: 460 روپے

کھجور: 1,470 روپے

کشمش: 2,630 روپے

یہ قیمتیں مقامی مارکیٹ کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے صدقہ فطر ادا کرنے سے پہلے موجودہ قیمت معلوم کرنا ضروری ہے۔

نتیجہ

صدقہ فطر ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر واجب ہے، اور اس کی ادائیگی عید الفطر کی نماز سے قبل کرنی چاہیے۔ گندم کے علاوہ جَو، کشمش اور کھجور سے صدقہ فطر ادا کرنے کی مقدار ایک صاع مقرر کی گئی ہے۔ مقامی نرخ کے مطابق اس کی رقم کا تعین کریں تاکہ مستحقین کو صحیح مدد پہنچائی جا سکے۔

حوالہ جات:

FatwaQA: گندم کے علاوہ کشمش، جَو یا کھجور سے فطرہ کتنا ہوگا

بیماری میں روزہ توڑنے کا حکم

روزہ توڑنے کی شرعی اجازت

اسلامی شریعت میں روزہ ایک اہم عبادت ہے، لیکن اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کے بعد ایسی بیماری میں مبتلا ہوجائے جس سے جان جانے یا عقل میں نقصان کا صحیح اندیشہ ہو، تو اس صورت میں روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔ معمولی بخار یا نزلہ زکام کی وجہ سے روزہ توڑنے کی اجازت نہیں ہے۔

بہارِ شریعت کی روشنی میں

بہارِ شریعت میں مذکور ہے کہ سفر، حمل، بچے کو دودھ پلانا، مرض، بڑھاپا، ہلاکت کا خوف، اکراہ، نقصانِ عقل اور جہاد یہ سب روزہ نہ رکھنے کے لیے عذر ہیں۔ اگر کسی کو بھوک یا پیاس کی شدت سے ہلاکت یا نقصانِ عقل کا صحیح اندیشہ ہو تو روزہ نہ رکھے۔

روزہ توڑنے کے بعد قضا کا حکم

اگر کسی نے بیماری کی وجہ سے روزہ توڑا ہے تو صحت یاب ہونے کے بعد اس روزے کی قضا کرنا واجب ہے۔ یعنی، جتنے روزے بیماری کی وجہ سے چھوڑے یا توڑے گئے ہیں، انہیں بعد میں رکھنا ضروری ہے۔

کفارہ کی شرائط

اگر کسی نے بلا عذرِ شرعی روزہ توڑا تو کفارہ لازم آتا ہے، جو کہ مسلسل ساٹھ روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہے۔ لیکن اگر روزہ توڑنے کے بعد اسی دن کوئی آسمانی عذر، جیسے حیض، نفاس یا ایسا مرض جس کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے یا توڑنے کی اجازت ہو، پیدا ہوجائے تو کفارہ ساقط ہوجاتا ہے اور صرف قضا لازم ہوتی ہے۔

اسلامی شریعت میں روزہ ایک اہم عبادت ہے، لیکن اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کے بعد ایسی بیماری میں مبتلا ہوجائے جس سے جان جانے یا عقل میں نقصان کا صحیح اندیشہ ہو، تو اس صورت میں روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔ معمولی بخار یا نزلہ زکام کی وجہ سے روزہ توڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ روزہ توڑنے کے بعد صحت یاب ہونے پر اس کی قضا کرنا واجب ہے۔ بغیر شرعی عذر کے روزہ توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے، لیکن اگر روزہ توڑنے کے بعد اسی دن کوئی آسمانی عذر پیدا ہوجائے تو کفارہ ساقط ہوجاتا ہے اور صرف قضا لازم ہوتی ہے۔

اعتکاف کی قضا: احکام اور طریقہ کار

رمضان کے سنت مؤکدہ اعتکاف کی قضا کا حکم

رمضان المبارک کے آخری عشرے کا سنت مؤکدہ اعتکاف اگر کسی وجہ سے ٹوٹ جائے تو صرف ایک دن کی قضا لازم ہوتی ہے۔ اگر رمضان کے دن باقی ہیں تو انہی میں قضا کی جاسکتی ہے۔ بصورت دیگر، رمضان کے علاوہ بھی کسی دن قضا کی جاسکتی ہے۔ تاہم، عید الفطر کے دن اور ذوالحجہ کی 10 سے 13 تاریخوں میں روزہ رکھنا مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا ان دنوں میں اعتکاف کی قضا نہیں کی جائے گی۔

اعتکاف کی قضا کا طریقہ

اعتکاف کی قضا کا طریقہ یہ ہے کہ کسی دن غروبِ آفتاب سے پہلے قضا اعتکاف کی نیت سے مسجد میں (عورتوں کے لیے مسجدِ بیت میں) داخل ہوں۔ اگلے دن روزہ رکھیں اور مغرب کی نماز کے بعد اعتکاف مکمل کریں۔ اس طرح ایک دن کا اعتکاف مکمل ہوگا اور قضا ادا ہوجائے گی۔

قضا اعتکاف میں روزے کی نیت

قضا اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے۔ اس لیے اعتکاف کی قضا کرتے وقت روزے کی نیت بھی ضروری ہے۔ یہ نیت رات کو سحری سے پہلے کرنی چاہیے تاکہ روزہ اور اعتکاف دونوں کی نیت مکمل ہو۔

نتیجہ

اگر رمضان کے آخری عشرے کا سنت مؤکدہ اعتکاف کسی وجہ سے ٹوٹ جائے تو صرف ایک دن کی قضا لازم ہے۔ یہ قضا رمضان کے باقی دنوں میں یا رمضان کے بعد کسی بھی دن کی جاسکتی ہے، سوائے ان دنوں کے جن میں روزہ رکھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ قضا اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے اور اس کی نیت رات کو سحری سے پہلے کرنی چاہیے۔

سحری کے دوران اذانِ فجر کے وقت کھانے پینے کے احکام

سحری کا اختتام اور اذانِ فجر کا آغاز

اسلامی تعلیمات کے مطابق، سحری کا وقت صبحِ صادق تک محدود ہے۔ صبحِ صادق کے طلوع ہوتے ہی سحری کا وقت ختم اور فجر کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ فجر کی اذان عام طور پر صبحِ صادق کے بعد دی جاتی ہے تاکہ نمازِ فجر کا وقت داخل ہونے کی اطلاع دے۔ لہٰذا، اذانِ فجر کے آغاز کے ساتھ ہی کھانے پینے سے رک جانا ضروری ہے۔

اذان کے دوران سحری جاری رکھنے کا حکم

اگر کوئی شخص اذانِ فجر کے دوران کھانے پینے میں مصروف ہو تو اسے فوراً رک جانا چاہیے۔ علماء کی اکثریت کے مطابق، اذان کے وقت سحری کھانے کا عمل جاری رکھنا روزے کی صحت پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ لہٰذا، احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اذان کے آغاز کے ساتھ ہی سحری کا اختتام کیا جائے۔

ناواقفیت میں اذان کے بعد کھانے پینے کا حکم

اگر کسی شخص نے لاعلمی یا ناواقفیت کی بنا پر اذانِ فجر کے بعد بھی کھانا پینا جاری رکھا تو اس دن کا روزہ معتبر نہیں ہوگا اور اس کی قضا لازم ہوگی۔ تاہم، اس صورت میں کفارہ واجب نہیں ہوگا کیونکہ یہ عمل جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔

احتیاطی تدابیر

سحری کے وقت کے اختتام سے چند منٹ قبل ہی کھانے پینے کا عمل مکمل کرلینا مستحب ہے تاکہ کسی ابہام یا غلطی سے بچا جاسکے۔ اس طرح روزے کی صحت اور قبولیت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔

نتیجہ

سحری کے دوران اذانِ فجر کے وقت کھانے پینے سے متعلق اسلامی احکام واضح ہیں۔ اذانِ فجر کے آغاز کے ساتھ ہی سحری کا اختتام کرنا ضروری ہے تاکہ روزہ درست اور مقبول ہو۔ ناواقفیت میں اگر اذان کے بعد کھانا پینا جاری رکھا جائے تو اس کی قضا لازم ہوگی، لیکن کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ سحری کا عمل وقتِ مقررہ سے پہلے مکمل کرلیا جائے۔